a taste of philosophy hp056 1 61 (1)

حافظ محمد شارق
فلسفہ یوں تو ہمارے ہاں ایک مردہ اور بے کار مضمون سمجھا جاتا ہے، مگر علم و دانش سے محبت کرنے والوں کے ایک مخصوص طبقے میں یہ علم آج بھی اسی شان کے ساتھ پل رہا ہے، گوکہ اس کی رفتار بڑی دھیمی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے نوجوان بھی فلسفے جیسے دقیق اور مادی اعتبار سے بے فائدہ علم کو پڑھنے اور سمجھنے پر رضامند ہیں۔ کسی طالب علم کے بارے میں خبر پہنچے کہ وہ فلسفے کا ذوق رکھتا ہے تو دل مسرت کے احساس سے کھل اٹھتا ہے، کیونکہ میرے نزدیک نوجوانوں کا فلسفہ پڑھنے کی طرف راغب ہونا دنیائے دانش کے لیے نئی وسعتوں کی نوید ہے۔ مگر ان خوش گمانیوں کے باوجود ایک اندیشہ جو ہمیشہ ستائے رکھتا ہے، وہ فلسفے کی مرعوبیت ہے۔

فلسفے کی تاریخ میں آزادی، حریتِ فکر اور باغیانہ افکار جیسے الفاظ بڑے پرکشش اور رومانویت کے حامل ہوتے ہیں۔ جب ایک طالب علم نظریات کی خاطر سقراط کی بے لوث قربانی کے بارے میں پڑھتا ہے تو اس کا ذہن فطری طور پر اپنی فکر کو اسی تناظر میں آراستہ کرنا چاہتا ہے۔ سقراط جیسے مجاہد اور مشنری فلسفی کا معاملہ ہو تو یہ قابلِ احترام ہے، حتیٰ کہ ہم دورِ قدیم کے بیشتر فلسفیوں کی فکری بغاوت کو احترام و عقیدت کے ساتھ قبول کرسکتے ہیں۔ لیکن جب وہی طالب علم جدید یورپی فلسفیوں کے باغیانہ افکار کو دیکھتا ہے تو انہیں بھی شہدائے فلسفہ کے تسلسل میں رکھ کر جذباتی طور پر ان سے مرعوب ہوجاتا ہے۔

مرعوب قومیں غالب قوموں کی تقلید خوبیوں میں نہیں بلکہ برائیوں اور خامیوں میں کرتی ہیں۔ بعینہٖ یہی معاملہ فلسفے کے اس طالب علم کے ساتھ ہوتا ہے جب اس کا ذہن جدید فلسفے کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ حریتِ فکر اور اختراع جیسے مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر لاحاصل تشکیک، بے جا تنقید اور غیر ضروری فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھ جاتا ہے۔ وہ ایک طرف وسیع النظری کے بجائے فلسفے ہی کی چار دیواری میں مقید ہوجاتا ہے تو دوسری جانب اپنے تئیں خود کو آزاد خیال، فلسفی اور نظریات کا باغی بھی گردانتا ہے۔

اگلا مرحلہ اس سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ جدید فلسفے کے بعض بڑے دھاروں میں مذہب سے مخالفت کا جو رجحان پایا جاتا ہے، وہ نوجوان کے ذہن میں پیوست ہونے لگتا ہے اور نام نہاد باغیانہ مزاج اسے مذہب پر تنقید اور روایات کی مخالفت پر اکساتا ہے۔ علمی اعتبار سے قابلِ فکر بات یہ ہے کہ اس رویے کی بنیاد کسی علم و تحقیق پر نہیں بلکہ محض ایک فیشن پر ہوتی ہے۔

ایک اور علمی مغالطہ یہ ہے کہ ہم فلسفے کو صرف یونان اور مغرب کی میراث سمجھ کر پڑھتے ہیں، حالانکہ ہندوستان اور عالمِ اسلام کی بھی اپنی فلسفیانہ روایات اور فکری سرمایہ ہے۔ ہمارے نوجوان عموماً یونانی فلسفے سے سفر شروع کرتے ہیں اور جدید مغربی فلسفے پر اسے ختم کردیتے ہیں۔ اس محدود مطالعے کے باعث بعض طلبہ مذہب اور مابعد الطبیعیات کو ابتدا ہی سے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں، کیونکہ جدید مغربی فلسفے کے متعدد دھارے عقلیت اور مادیت کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ حالانکہ ایک ہی فکری روایت کے مقدمات اور معیارات کے تحت تمام افکار کو جانچنا علمی وسعت نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص مقدمے کے ایک ہی فریق کو سنے اور اپنے فیصلے کو غیر جانب دارانہ تحقیق کا نتیجہ قرار دے۔ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم فلسفے کی مختلف روایتوں کا مطالعہ کریں، ان کے مقدمات سمجھیں اور تقابل و تنقید کے بعد رائے قائم کریں۔

اصل میں نوجوان فلسفہ پڑھتے ہوئے سب سے بڑی غلطی یہی کرتے ہیں کہ وہ اس سے مرعوب ہوکر اسے صداقت جانچنے کا حتمی معیار بنا لیتے ہیں، حالانکہ دینیات کسی بھی سطح پر فلسفے سے کم نہیں۔ مغربی فلسفے کی بنیادی خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے بعض رجحانات دوسرے نظام ہائے فکر کے مقدمات کو قابلِ التفات نہیں سمجھتے، اور اگر ان کا جائزہ لیتے بھی ہیں تو اپنے ہی اصولوں پر۔ فلسفے سے مرعوب ذہن بھی یہی متعصبانہ خواہش رکھتا ہے کہ مذہب پر فلسفے کی برتری تسلیم کی جائے، جو ظاہر ہے کہ ایک غیر جانب دارانہ منہج نہیں۔

فلسفہ اپنی وسعت کے عوض بلاشبہ یہ حق رکھتا ہے کہ مذہبی مقدمات کا جائزہ لے، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مذہب فلسفے سے کسی کم تر سطح پر کھڑے ہوکر اپنا پوسٹ مارٹم کروائے۔ مذہب فلسفے کے اس حق کو اپنی شرائط پر ہی تسلیم کرتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مذہب فلسفے کی طرح محض سوالات کے تسلسل کا نام نہیں، بلکہ ایک جوابی مقدمہ، ایک عملی ضابطہ، ایک طرح کی سند (Authority) کا مدعی اور ایک مکمل نظامِ فکر ہے۔

فلسفہ حقیقت کشائی اور مذہب حقیقت تک رسائی کا نام ہے۔ تمام پہلوؤں سے یہی واضح ہوتا ہے کہ مذہب فلسفے سے بلاشبہ ارفع و اعلیٰ مقام پر فائز ہے، اور فلسفے کی مرعوبیت میں مذہب کا سودا کرنا ایک سنگین فکری خسارہ ہے (حافظ محمد شارق)