
میں الحاد سے متعلق اپنے اکثر سیشنز میں یہ بات دہراتا ہوں، اور کل بھی الحاد سے متعلق کلاس میں یہی عرض کیا کہ الحاد اب محض خدا کے انکار کا نام نہیں رہا، بلکہ اس کے پیچھے انسان، کائنات، علم، اخلاق اور زندگی کے مقصد سے متعلق ایک پورا نظریاتی ڈھانچہ موجود ہے، جس سے مخصوص تہذیبی رویّے اور طرزِ زندگی بھی جنم لیتے ہیں۔
اتفاق سے آج آکسفورڈ یونیورسٹی کا ایک پی ایچ ڈی مقالہ
The Anatomy of Unbelief: A Critical Assessment of the Cognitive Science of (Non)Religion
کا خلاصہ نظر سے گزرا۔ اس تحقیق کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ عدمِ مذہب یا الحاد کو صرف “مذہبی عقیدے کی غیر موجودگی” سمجھنا علمی طور پر ناکافی ہے۔ ایک غیر مذہبی انسان بھی محض خالی ذہن نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اپنے مثبت تصورات، اقدار، سماجی شناخت، عادات، ثقافتی ماحول اور زندگی کو معنی دینے کے طریقے ہوتے ہیں۔ مقالہ Cognitive Science of Religion کے ان رجحانات پر بھی تنقید کرتا ہے جو مذہب یا عدمِ مذہب کو صرف دماغ کے اندر موجود چند cognitive mechanisms سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس کے مقابلے میں جسم، ثقافت، ماحول، معاشرتی practices اور انسانی تعامل کو شامل کرتے ہوئے ایک زیادہ وسیع biocultural کا تصور پیش کرتا ہے۔
تاہم یہاں مزید بنیادی سوال باقی رہ جاتا ہے۔ اگر مذہب اور عدمِ مذہب کو صرف cognition، جسم، ثقافت اور ماحول کے باہمی تعامل سے explain کیا جائے تو کیا اس سے انسان اور اس کے اعتقاد کی مکمل حقیقت سامنے آجاتی ہے؟ میرے خیال میں یہاں اسلامی علمی روایت ایک اہم اضافہ کرسکتی ہے۔ قرآن و سنت انسان کو صرف biological اور cultural being نہیں سمجھتے، بلکہ فطرت، عقل، قلب، نفس، ارادہ، خواہش، اخلاقی ذمہ داری اور وحی جیسے dimensions بھی انسانی ایمان و انکار کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح Cognitive Science میں “religion is natural” کا تصور اور اسلام میں فطرت کا تصور بظاہر مشابہ ہونے کے باوجود ایک نہیں ہیں؛ اول الذکر زیادہ تر ذہنی میلان اور cognitive processes کی بات کرتا ہے، جبکہ فطرت ایک گہرا تصور ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ Cognitive Science of Religion اور جدید studies of unbelief کا قرآن و سنت کی روشنی میں باقاعدہ تنقیدی مطالعہ کیا جائے۔ انسان کفر یا الحاد تک صرف ذہنی mechanisms اور ماحول کے سبب پہنچتا ہے، یا اس میں ارادہ، خواہش، تکبر، غفلت، تقلید اور اخلاقی انتخاب بھی کارفرما ہوتے ہیں؟ میرے خیال میں اسلامی تصورِ فطرت اور جدید Cognitive Science of (Non)Religion کا تقابلی و تنقیدی مطالعہ ایک مستقل اور نہایت اہم تحقیقی میدان بن سکتا ہے۔




