
حافظ محمد شارق
بہت سے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ ہم نے ماہر نفسیات سے فلاں مسائل کے لیے رجوع کیا لیکن جزوی افاقہ ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد وہی مسئلہ دوبارہ ظاہر ہوگیا۔ یہ مسئلہ ڈپریشن، ٹراما، اور انزائٹی میں خاص طور پر موجود ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ماڈرن سائیکولوجی نے انسان کے ذہنی مسائل کی تشخیص و علاج کا ایک منظم ڈھانچا ضرور قائم کیا ہے، مگر یہ نظام ایک ایسی علمیت (Episteme) پر کھڑا ہے جس میں خدا اور مابعدالطبیعیات (میٹافزکس) کا انکار بنیادی فلسفہ ہے۔ یہیں سے جدید علم نفسیات میں کئی مسائل رونما ہوتے ہیں خاص طور پر یہ مسئلہ خود ماڈرن سائیکولوجسٹ کے ہاں بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عصری نفسیات علامات کو وقتی طور پر قابو میں تو لے آتی ہے، مگر انسان کو پائیدار اور ہمہ جہت شفا نہیں دے پاتی۔ میری رائے میں اس کے پیچھے بنیادی طور پر درج ذیل وجوہات ہیں۔
1. پہلی یہ کہ جدید نفسیات علامت کو ہی مسئلہ سمجھ لیتی ہیں۔ مثلاً ڈپریشن کو بیماری سمجھ کر اس کے اسباب تلاش کیے جاتے ہیں اور پھر اس کے حل کے لیے تگ و دو کی جاتی ہے۔ جبکہ ڈپریشن کا علاج کربھی لیا جائے تو مسئلہ کچھ ہی عرصے میں دوبارہ رونما ہوجاتا ہے۔
2. دوسری غلطی اخلاقی اور نفسیاتی سطحوں کو خلط ملط کرنا ہے۔بعض مبلغ قسم کے ماہرین نفسیات ہر کمزوری کو اخلاقی اور مذہبی مسئلہ بنا دیتے ہیں اور دوسری جانب غیر مذہبی ماہرین نفسیات ہر اخلاقی مسئلے کو بھی بیماری قرار دیتے ہیں۔
3. ماڈرن سائیکولوجی کی تیسری اور سب سے بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس میں انسان کو ایک ہی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، صرف دماغ یا سوچ کی سطح پر۔انسانی وجود کی ایک بڑی جہت اس کا روحانی وجود ہے جس کے اپنے اثرات بہرحال شخصیت پر ہوتے ہیں۔ جدید نفسیات انسان کے اس روحانی وجود مکمل انکار کرتی ہے۔۔
4۔ عصری نفسیات میں فرد کو ٹھیک کرکے دوبارہ مادیت کے حوالے کردیا جاتا ہے جو کہ خود جدید تحقیقات کے مطابق نفسیاتی مسائل کا باعث ہے۔ لہٰذا اس کے لیے ایک رکاوٹ کھڑی کرنا اور انسان کی تربیت ان خطوط پر کرنا کہ وہ دوبارہ اس مسئلے کا شکار نہ ہو، جدید نفسیات اس عمل سے لاتعلق ہے۔
5. عصری نفسیات انسان کے ذہنی مسائل کی وضاحت اور علاج کرتی ہے مگر انسان کی زندگی کے مقصد پر خاموش رہتی ہے۔ظاہر ہے کہ ابنارمل سے نارمل ہونے کے بعد انسان انسان آخر جی کیوں رہا ہے؟اگر یہ سوال unanswered رہے تو علاج ادھورا رہتا ہے۔کیونکہ بہت سے مریض بظاہر بالکل ٹھیک ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اندر سے خالی emptiness یا بے معنویت کا شکار ہوتے ہیں جسے existential vacuum کہا جاسکتا ہے۔
6. ایک اور اہم ترین مسئلہ خیر و شر سے لاتعلق ہونا ہے بلکہ کئی صورتوں میں نفسیات کا عصری ماڈل ہمارے ضمیر کی آواز کو Pathology بنا دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ناجائز جنسی تعلق میں ہے اور اسے شرمندگی محسوس ہو رہی ہے تو تھراپسٹ کے نزدیک مسئلہ وہ تعلق نہیں بلکہ احساسِ شرمندگی ہے۔
جب تک موجودہ علم نفسیات اپنی بنیادی خرابیوں کو ٹھیک نہیں کرتا، وہ انسان کے نفسیاتی مسائل کے حل کا مکمل فریم ورک بھی فراہم نہیں کرسکتا۔ (حافظ محمد شارق)




