ایک سوال سے شروع ہونے والا سفر
کچھ علمی سفر کسی منصوبے سے شروع نہیں ہوتے، ایک سوال سے شروع ہوتے ہیں۔ حافظ محمد شارق کا سفر بھی ایسے ہی ایک سوال سے شروع ہوا کہ کیا دینی روایت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے اپنے زمانے کے فکری، نفسیاتی اور تہذیبی سوالات کو بھی اسی گہرائی سے سمجھا جاسکتا ہے؟
تدریس، تحقیق اور تصنیف
2012 میں انہوں نے تدریس کے میدان میں قدم رکھا، لیکن تدریس کے ساتھ مطالعہ، تحقیق اور تصنیف کا سفر بھی مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ کم عمری ہی میں لکھنے کا آغاز کیا اور مطالعۂ مذاہب کو اپنی تحقیق کا مرکزی میدان بنایا۔ ہندو مت، بدھ مت، زرتشتیت اور دیگر مذاہب پر ان کی متعدد تصانیف سامنے آئیں، اور رفتہ رفتہ تقابلِ ادیان میں ان کی ایک نمایاں علمی شناخت قائم ہوئی۔ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی دلچسپی صرف اس سوال تک محدود نہیں رہی کہ کوئی مذہب کیا تعلیم دیتا ہے، بلکہ وہ اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے رہے کہ کسی عقیدے، نظریے اور انسانی رویّے کے پیچھے کون سے فکری، تاریخی اور نفسیاتی عوامل کام کرتے ہیں۔
ایک خلا کا احساس
مدرسے کی تعلیم نے انہیں اسلامی علمی روایت سے گہرا تعلق دیا، مگر اسی سفر میں انہوں نے ایک خلا بھی محسوس کیا۔ دینی علوم پڑھنے والے طلبہ کے پاس اپنی روایت کا قیمتی سرمایہ تو موجود ہوتا ہے، لیکن جدید فلسفے، نفسیات، contemporary thought اور نئے فکری چیلنجز تک ان کی منظم رسائی اکثر محدود رہتی ہے۔ یہی احساس آگے چل کر ان کے تعلیمی وژن کی بنیاد بنا۔ ان کے نزدیک آج کے عالم یا دینی طالب علم کے لیے صرف اپنی روایت سے واقف ہونا کافی نہیں، اسے اپنے زمانے کو بھی سمجھنا چاہیے۔
نفسیات کی طرف
اسی جستجو نے انہیں نفسیات کے گہرے مطالعے کی طرف متوجہ کیا۔ انسانی ذہن، شخصیت، رویّے، مذہبی تجربے اور نوجوانوں کے فکری و نفسیاتی سوالات ان کے کام کا اہم حصہ بنتے گئے۔ یوں ان کے علمی سفر میں مذہب، فلسفہ اور نفسیات تین الگ موضوعات نہیں رہے، بلکہ انسان اور اس کے فکری وجود کو سمجھنے کے تین مختلف زاویے بن گئے۔
ایک تعلیمی وژن
اسی وژن کے تحت انہوں نے Enlighten Education کی بنیاد رکھی، جس کے تحت MindfulDeen اور Scholars Development Program جیسے منصوبے کام کر رہے ہیں۔ Scholars Development Program کا بنیادی مقصد ایسے اہلِ علم تیار کرنا ہے جو اپنی دینی و علمی روایت سے جڑے رہیں، مگر جدید دنیا کے افکار، سوالات اور نظریات سے بھی پوری طرح واقف ہوں۔ اس پورے تعلیمی تصور کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے: روایت سے وابستہ، اپنے عہد سے واقف۔
روایت سے وابستہ، اپنے عہد سے واقف
شعور انسٹی ٹیوٹ سے وابستگی
حافظ محمد شارق کا تعلق شعور انسٹی ٹیوٹ اینڈ میڈیا نیٹ ورک کے ابتدائی فکری خاکے سے بھی رہا۔ ادارے کی بنیاد شعیب مدنی نے رکھی، جبکہ حافظ محمد شارق ابتدائی تصوراتی مرحلے میں اس سفر کا حصہ رہے اور 2024 میں باقاعدہ طور پر ادارے سے وابستہ ہوئے۔ یہاں ان کی تدریسی اور تحقیقی فکر کو میڈیا، تربیت اور نئی نسل تک علمی مواد پہنچانے کے ایک وسیع تر میدان سے جوڑنے کا موقع ملا۔
آج کا کام
آج ان کا کام محض کتاب لکھنے، کلاس پڑھانے یا کسی ایک علمی موضوع تک محدود نہیں۔ ان کی اصل دلچسپی ایسے افراد اور ایسے علمی ماحول کی تشکیل میں ہے جہاں سوال کو سنا جائے، انسان کو سمجھا جائے اور پھر علمی دیانت کے ساتھ جواب دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک تعلیم کا اصل مقصد معلومات کا اضافہ نہیں، بلکہ فہم میں تبدیلی ہے۔
ان کے پورے سفر کو شاید ایک ہی جملے میں سمیٹا جاسکتا ہے: اپنی روایت میں مضبوط رہتے ہوئے اپنے زمانے کو سمجھنا، اور پھر دوسروں کو بھی اس فکری اعتماد تک پہنچانا۔







